اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت 12 نومبر کو ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو پر فرد جرم عائد ہو گی،عدالت نےزمان وٹو کی غیر مشروط معافی کی فوری استدعا مسترد کردی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی درخواست گزار کی جانب سے وکیل بیرسٹر حسنین حیدر تھہیم عدالت میں پیش ہوئے۔زمان وٹو کی جانب سے وکیل کاشف ملک اور نذیر جواد پیش ہوئے۔آپ عدالتوں کی عزت اور وقار کو سینجیدہ نہیں لیتے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہایہاں پر نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ حکومت جو کچھ کہے گی ہم کہیں گے ٹھیک ہے جی؟، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کاکہناتھاجب کیس چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لئیے مقرر ہے تو یہ سینیئر کورٹ ہے، جب تک اس عدالت میں کیس کال ہو اور سناجائے تو عدالت میں رہنا چاہئیے،مجھے کسی کے ساتھ گرج یا کسی کے خلاف انتقام نہیں ہے،جس دن یہ آرڈر پاس ہو رہا ہے انھوں نے کہا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یہاں یہ کہہ کر یہ دوسری عدالت پیش ہو گئے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہااس دن اس دن یہ آرڈر وہ آرڈر اس بات کو چھوڑ دیں، جس دن کے لئیے یہ آرڈر پاس ہوا ہے اس دن کے لئیے سزا کرونگا، ۔وکیل زمان وٹو نے کہاہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، وکیل کاشف ملک نے کہاہم عدالت کے فیصلے کے خلاف جسٹیفائی نہیں کر رہے، چیف جسٹس نے کہاآپ نے ساٹھ سال سروس کی اپکو یہ پتہ نہیں کون سی عدالت بڑی ہوتی ہے، سرفراز ڈوگر نے کہاآپ کا رویہ عدالتی حکم کو بلڈوز کر رہا ہے، یہاں سمجھا جاتا ہے کہ باقیوں کو گھنٹوں بٹھائیں اور سوٹڈ بوٹڈ کو دس منٹ میں سن لیں، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہاآپ کو چاہیے تھا پہلے یہاں آکر کہتے کہ وقت دے دیں، آپ نے یہ زحمت نہیں کی اور دوسری عدالت میں جانے کو ترجیح دی۔اپکو اس عدالت نے ذاتی طور پر طلب کیا تھا، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہاآپ نے دوسری عدالت میں پیش ہو کر واپس چلے گئے،. چیف جسٹس سرفراز ڈوگرنے کہاآپ مجھے سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہمارا آرڈر غلط تھا، ڈوگروکیل کاشف ملک نے کہاہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نےکہامعافی تو اب بعد میں دیکھی جائے گی، وکیل سی ڈی اے نذیر جواد نے کہاہمیں کچھ وقت دے دیں، اگلی سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں گے،چیف جسٹس سرفراز ڈوگرنے کہامستقبل میں بعد میں دیکھیں گے، اگلے ہفتے فرد جرم عائد ہوگی
